HAR KHABAR

Articles by "judicial"
۔پاکستان میں پانی کا بحران آچکا !!! مانے یا نا مانے پانی پر جنگوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔۔۔!!! anjuman e tajran anp apc army BALOCHISTAN ASSEMBLY BIKE RACING bollywood Business COLUMNS CPEC cricket CRIME election FBR FIA FPCCI hockey imran khan international interpol ISPR judicial kashmir KPK KPK ASSEMBLY lahore latest news LCCI local local news mma mqm multan N.R.O NA124 NAB national NATIONAL ASSEMBLY NEPRA oil pakistan PIA PIAF pmln POLICE Political news ppp PRESIDENT PRIME MINISTER psp PTI punjab PUNJAB ASSEMBLY RAILWAY rangers rawalpindi showbiz SINDH SINDH ASSEMBLY social issues sports STOCK EXCHANGE SUPREME COURT TECNOLOGY thailand world آزاد امدوار محمد عظیم قصوری کے ساتھ گفتگو آشیانہ ہاﺅسنگ سکینڈل، سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد گرفتار احتساب عدالت فیصلے کی تفصیلات دیکھ رہے ہیں جلد واپسی کا فیصلہ کیا جائیگا، نواز شریف اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت سے معطلی کا نوٹیفکیشن جاری افغانستان کے شہر جلال آباد میں خود کش دھماکا، 19 افراد ہلاک اُلتر پیک پر پھنسے 2 غیرملکی کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرلیا گیا، ایک کی لاش گلگت منتقل الیکشن سے دستبردار ہونے کا وقت ختم، مخدوم جاوید ہاشمی سمیت کئی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے آئندہ عام انتخابات کے اوقات کار میں توسیع کر دی گئی ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سیاسی جماعتوں،انتخابی امیدواروں اور پولنگ ایجنٹوں کے لئے ضابطہ اخلاق جاری الیکشن کمیشن کا اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے نگران وفاقی اور صوبائی وزرا کو کام کرنے سے روکنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے (ن) لیگی امیدوار رانا اقبال پر مبینہ تشدد کا نوٹس لے لیا امریکہ میں تارکین وطن کے حق میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید مظاہرہ بلاول بھٹو کو الیکشن ضابطہ کی خلاف ورزی پر نوٹس آگیا پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنا معیشت کے لئے بری خبر ہے ۔فیصلہ میرٹ پر نہیں کیا گیا، پیاف پاکستان میں کان کنی و معدنیات کے بہت ذخائر موجود ہیں،ریجنل چئیرمین ایف پی سی سی آئی چوہدری عرفان یوسف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر لاہور چیمبر کی سخت تنقید، فوری واپسی کا مطالبہ تھائی لینڈ میں نئے امیگریشن قوانین کا اطلاق، پاکستانیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں 31 جولائی تک توسیع، صدر نے آرڈیننس پر دستخط کردیے ٹیکس ایمنسٹی کی تاریخ میں اضافہ خوش آئند۔ عوام بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ رحمت اللہ جاوید چیف جسٹس کو کوئی حق نہیں کہ کھلی عدالت میں ججز کی تضحیک کریں ‘ جسٹس شوکت صدیقی چین خواجہ خاور رشید زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیلئے صنعتی مقاصد کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کی جائے،راجہ وسیم حسن سنجے دت خود پر بننے والی فلم دیکھ کر رو پڑے سندھ حکومت جاتے جاتے شرجیل میمن کو نواز گئی سیاست میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر شرمندہ ہوں، چوہدری نثار صنعتی شعبہ کو ریلیف دینے کے لئے بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے: پیاف عالمی برادری دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے اعلامیہ جاری کردیا گیا، پاکستانی نظام میں 10خامیوں کی نشاندہی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری کی دو دن سے بجلی بند،لیسکوگھوڑے بیچ کر سو گیا۔ کچھ لوگ کالا باغ ڈیم کے پیچھے پڑ گئے ہیں. اسفند یار ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کے خلاف پھٹ پڑے گیلپ پاکستان، پلس کنسلٹنٹ اور آئی پی او آرکے الیکشن سروے کے نتائج جاری لیاری میں بلاول بھٹو کی ریلی پر پتھراؤ، مظاہرین کی پیپلز پارٹی کے خلاف نعرے بازی. میاں محمد ادریس کو لائنز کلب انٹرنیشنل کا ڈائریکٹر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں نگران حکومت نے عوام پر پیٹرول بم گرادیا، پیٹرول 7 روپے 54 پیسے اور ڈیزل 14 روپے مہنگا نگران وزیراعلی پنجاب کی قومی کرکٹ ٹیم زمبابوے کے خلاف فتح پر مبارکباد نواز شریف اور مریم کا ایک ہفتے میں وطن واپسی کا فیصلہ، ذرائع وزیراعلیٰ سندھ سب سے امیر اوروزیراعلیٰ بلوچستان سب سے غریب نکلے


لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جب کہ جسٹس ثاقب نثار نے (ن) لیگی رہنما پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس دوران سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے پر پیش ہوگئے۔چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق سے استفسار کیاکہ خواجہ صاحب آپ نے آڈٹ رپورٹ دیکھی؟ اس پر سابق وزیر ریلوے نے کہا کہ ہم نے ریلوے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا، یہاں پر بے عزتی کروانے نہیں آیا۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کی کوئی بے عزتی نہیں کررہا، آج تو آپ گھر سے غصے میں آئے ہیں۔سعد رفیق نے جواب دیا کہ میں غصے میں نہیں آیا، ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ ہے کہ وہ کسی کی بے عزتی نہیں کرسکتے۔اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا غرور گھر چھوڑ کر آیا کریں، آپ سے جو پوچھا جارہا ہے آپ وہ بتائیں۔سابق وزیر ریلوے نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ میں شاباش لینے آتا ہوں آگے ڈانٹ پڑجاتی ہے، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ جواب جمع کروائیں پھر دیکھتے ہیں شاباش ملتی ہے یا نہیں۔


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے این آر او کے خلاف کیس کی سماعت منگل کے دن مقرر کردی۔سپریم کورٹ میں این آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس) سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ این آر او کی وجہ سے ملک کو اربوں کا نقصان ہوا لہٰذا قانون بنانے والوں سے نقصان کی رقم وصول کی جائے۔عدالت نے درخواست گزار پر ابتدائی سماعت کے بعد 24 اپریل کو سابق صدور آصف زرداری اور پرویز مشرف کو نوٹس جاری کیے تھے جب کہ آصف زرداری اور دیگر نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب بھی جمع کرادیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔عدالت نے سماعت کے سلسلے میں سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری سمیت اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے۔

August 02, 2018
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا سناتے ہوئے ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا، جس کے ساتھ ہی وہ 5 سال کے لیے نااہل ہوگئے۔جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا، جسے 11 جولائی کو محفوظ کیا گیا تھا۔صبح ساڑھے 11 بجے عدالتی وقت کے اختتام کے ساتھ ہی طلال چوہدری کی قید کی سزا تو ختم ہوگئی، تاہم وہ 5 سال تک کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل ہوگئے۔طلال چوہدری کو آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا سنائی گئی اور ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔سابق وزیر مملکت طلال چوہدری نے عدالت میں 2 گھنٹے، 5 منٹ قید کی سزا کاٹی۔

لاہور( رفعت سلیم) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریک انصاف کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی ندیم عباس بارا کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے ندیم عباس بارا کے ڈیرے پر فائرنگ اور پولیس پر تشدد کا ازخود نوٹس لیا۔اس موقع پر آئی جی پنجاب سید کلیم امام اور دیگر افسران عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ اہلکاروں پر تشدد کرنے والے 50 افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔آئی جی پنجاب نے عدالت کو مزید بتایا کہ اہلکاروں کو تشدد کے الزام میں 21 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 28 ملزمان مقدمے میں نامزد ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے تحریک انصاف کے نومنتخب ایم پی اے ندیم عباس بارا کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔




لاہور ( رفعت سلیم) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب کمپنیز اسکینڈل قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجتے ہوئے 10 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پنجاب کمپنیز اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر تمام کمپنیوں کے سی ای اوز سمیت چیف سیکریٹری پنجاب اور ڈی جی نیب لاہور بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اورنج لائن ٹرین، فاسٹ ٹریک اور دیگر منصوبے ایک ہی ٹھیکیدار کو دیے گئے، اگر کوئی پیسے واپس نہیں کرے گا تو ہم نکلوالیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے آئی ڈیپ کے سی ای او پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ آپ 11 لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں، آپ کا کیا تجربہ ہے؟ کسی کو خیال ہی نہیں کہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے‘۔چیف جسٹس پاکستان نے حکم دیا کہ 3 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے تمام افسران نیب کے روبرو پیش ہوں گے، اگر کوئی پیسے واپس نہیں کرے گا تو ہم نکلوا لیں گے۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب کمپنیز اسکینڈل پر ریفرنس بنتاہے تو نیب ریفرنس بھی فائل ہوگا، قومی احتساب بیورو 10 روز میں رپورٹ پیش کرے

لاہور( رفعت سلیم): چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہےکہ ہمیں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں اور ہمیں بطور ادارہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے۔لاہور میں جوڈیشل اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میں نے بہت سے شعبوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی،شاید وہ سب کچھ نہیں کرسکا جو کرنا چاہتا تھا۔ عدالتی نظام میں تبدیلی بتدریج آتی ہے، بعض اوقات قوانین میں تبدیلی کے باوجودبہت سے نتائج حاصل نہیں کیےجاسکتے، عدالتی نظام میں بہت سی اصلاحات موجودہیں لیکن بدقسمتی سے آج بھی عدالتی نظام میں برسوں پرانے طریقے رائج ہیں،آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ایک پٹواری کی محتاجی برقرارہے چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے تک فوری انصاف میں مشکلات رہیں گی، جج صاحبان کو بھی اپنے اندر فوری انصاف فراہم کرنےکا جذبہ پیدا کرنا ہو گا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ میں تربیت کا فقدان ہے، میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی مجھے پورا قانون نہیں آتا، ہمیں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، کسی جج کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو وہ اس کا مداوا کرے اور ہمیں بطور ادارہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھاکہ ہم عصر حاضرکے تقاضوں کے مطابق قوانین میں ترامیم نہیں کرسکے، بہتری اور تبدیلیاں آتی ہیں، ہمیں ایک جگہ نہیں رُکنا، جب تک قانون پر عملداری کا جذبہ نہیں ہوگا، بہتری نہیں لائی جا سکےگی، کسی بھی نظام میں تبدیلی لانے کے لیے کشٹ کاٹنا پڑتاہے۔چیف جسٹس پاکستان نے پانی کے بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں پانی کی مشکلات بڑھ جائیں گی، اللہ نہ کرے کہ زندہ رہنا مشکل ہوجائے، ملک میں پانی کی قلت ایک بین الاقوامی سازش ہے۔ پانی کا مسئلہ مجرمانہ غفلت ہے، ہم سب کو ڈیم بنانے کے لیے بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے، پاکستان ہے تو ہم ہیں ،پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں، پاکستان کسی نےہمیں تحفے میں نہیں دیا، ہمیں آنے والی نسل کے لیے قربانیاں دینی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں اسلام آ باد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف از خود نوٹس لینے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی سے نا انصافی نہیں کریں گے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ بھی انصاف ہو گا۔اس موقع چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئین سے عدالت کے اندر اپنا حلف بھی پڑھ کر سنایا اور درخواست گزار کو تسلی دی کہ ملک کے خلاف کچھ نہیں ہورہا۔چیف جسٹس پاکستان نے ر یمارکس دیئے کہ جب تک یہ طاقتور عدلیہ موجود ہے، ملک پر اللہ کا فضل رہے گا۔جسٹس ثاقب نثار نے درخواست گزار سے مکالمہ کیا کہ اگر آپ اس معاملے پر پٹیشن دائر کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں، میں اس معاملے پر از خود نوٹس نہیں لے رہا۔واضح رہےکہ چیف جسٹس پاکستان نے گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا نوٹس لے رکھا ہے جب کہ آئی ایس پی آر نے بھی ان کے بیان کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


راولپنڈی( رفعت سلیم) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈی جیآئی ایس پی آر نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج نے عدلیہ اور سیکیورٹی ایجنسیوں سمیت ملک کے اہم اداروں پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ملکی اداروں کے وقار اور تکریم کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے۔





  1. کراچی( رفعت سلیم) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ماڑی پور میں گریٹر کراچی سیوریج پلان ایس تھری منصوبے کا افتتاح کردیا۔افتتاح کے موقع پر سربراہ واٹر کمیشن جسٹس (ر) امیرہانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے جب کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ لوگوں کے حق کے لیے بڑھ چڑھ کر آگے ہوگی اور لوگوں کو بنیادی حقوق پہنچانے کے لیے ہر اقدام کرے گی۔ سمندروں کو ہم آلودہ کررہے تھے جسے روکنے کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس سے مدد ملے گی، جس انداز میں امیر ہانی مسلم اور واٹر کمیشن نے کام کیا وہ قابل ستائش ہے، جنہوں نے قوم کو مایوس نہیں کیا۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں، ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو زندگی دینی ہے جس کے لیے سب سے اہم چیز پانی ہے، ہمیں اپنے لوگوں کے لیے یہ پانی بچانا ہےچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تمام چیزوں میں کوئی ذاتی مفاد نہیں، ہمیں آئندہ نسلوں کو بہتر پاکستان دے کر جانا چاہیے جب کہ دو دن بعد الیکشن ہیں اس لیے کچھ ایسا نہیں کہوں گا جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ان کا کہنا تھا کہ 6 ماہ پہلے کراچی جیسا تھا اب اس میں تبدیلی آئی ہے کیوں کہ جس راستے سے گزرا وہ صاف نظر آرہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں لیکن کیا ہم نے اپنے وسائل کی قدر کی؟ پانی آئندہ نسلوں کی امانت ہے جب کہ میری، میرے ساتھیوں کی کوشش ہے کہ تمام پاکستانی اپنے بنیادی حقوق حاصل کریں۔



راولپنڈی ( رفعت سلیم ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات کی 50 فیصد ذمہ داری عدلیہ اور باقی 50 فیصد دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہےراولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ بار میں آکر خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کی عرصے سے خواہش تھی کیوں کہ میرا احتساب میری بار ہی کر سکتی ہے اور میرے اوپر آج تک کوئی کرپشن کا ایک الزام ثابت نہیں کر سکتا۔ جب بھی کوئی اہم فیصلہ دیتا ہوں ایک مخصوص گروہ کی جانب سے مہم چلادی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ وہی جج صاحب ہیں جن کے خلاف کرپشن ریفرنس زیرسماعت ہے۔ میرا دامن صاف ہے اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست دی کہ اوپن ٹرائل کریں لہٰذا تمام وکلاء کو دعوت دیتا ہوں کہ آکر دیکھیں مجھ پر کرپشن کے الزام میں کتنی صداقت ہے؟ اگر کرپشن نظر آئے تو بار مجھ سے استعفی کا مطالبہ کرے تو میں مستعفیٰ ہوجاؤں گا۔ کہا گیا یقین دہانی کرائیں کہ مرضی کے فیصلے کریں گے تو آپ کے ریفرنس ختم کرادیں گے اور مجھے نومبر تک نہیں ستمبر میں چیف جسٹس بنوانے کی بھی پیش کش کی گئی لیکن مجھے نوکری کی پرواہ نہیں ہے کیوں کہ جج نوکری سے نہیں بلکہ انصاف، عدل اور دلیری کا مظاہرہ کرنے سے بنتا ہے۔ آج آزاد میڈیا بھی اپنی آزادی کھو کر گھٹنے ٹیک چکا ہے، موجودہ ملکی حالات کی 50 فیصد ذمہ داری عدلیہ اور باقی 50 فیصد دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ابھی تک قانون کے طلبا کو نہیں معلوم کہ جسٹس منیر نے کیا کردار ادا کیا تھا؟ جسٹس منیر کا کردار ہر کچھ عرصے بعد سامنے آتا ہے۔ وکلاء جرائم میں کمی کا سبب بنیں، سہولت کار نہ بنیں کیوں کہ ترقی کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ پاکستان کا موازنہ امریکا یا یورپ کے ساتھ نہیں ہوسکتا بلکہ بھارت، بنگلہ دیش یا سری لنکا کے ساتھ ہوسکتا ہے۔

MKRdezign

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget